کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ عیسیٰ ابن مریم کا دجال کے قتل کے بعد لوگوں میں قیام کی مقدار
حدیث نمبر: 6822
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لاحِقٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ ، قَالَ : فَلا تَبْكِينَ ، " فَإِِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ أَكْفِيكُمُوهُ ، وَإِِنْ مُتُّ ، فَإِِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِِنَّهُ يَخْرُجُ مَعَهُ الْيَهُودُ ، فَيَسِيرُ حَتَّى يَنْزِلَ بِنَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ ، فَيَخْرُجُ إِِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا ، فَيَنْطَلِقُ حَتَّى يَأْتِيَ لُدّ ، فَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُهُ ، ثُمَّ يَلْبَثُ عِيسَى فِي الأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِِمَامًا عَدْلا وَحَكَمًا مُقْسِطًا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا ذکر کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ روؤ کیوں کہ اگر وہ ایسے وقت میں نکلا جب میں زندہ ہوا تو میں تم سب کی جگہ اس کے مقابلے میں ہوں گا اور اگر میں مر گیا تو تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے وہ دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ یہودی ہوں گے وہ چلتا ہوا مدینہ منورہ کے ایک کنارے پر پڑاؤ کرے گا اس زمانے میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے جن میں سے ہر دروازے پر دو فرشتے تعینات ہوں گے مدینہ منورہ کے بدترین لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے پھر وہ وہاں سے روانہ ہو گا، یہاں تک کہ ” لد“ کے مقام پر آئے گا وہاں سیدنا عیسیٰ بن مریم نزول کریں گے وہ اسے قتل کر دیں گے پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں رہیں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چالیس کے قریب تک رہیں گے وہ عادل حکمران انصاف کرنے والے حاکم کے طور پر رہیں گے۔