کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ عمرو بن محمد کی ہمارے ذکر کردہ خبر غلط ہے
حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا ، يَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَيُفِيضُ الْمَالَ حَتَّى لا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تمہارے درمیان سیدنا عیسیٰ بن مریم انصاف کرنے والے اور عدل کرنے والے حکمران کے طور پر نزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیے کو ختم کر دیں گے مال کو عام کر دیں گے، یہاں تک کہ کوئی شخص اسے قبول نہیں کرے گا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت لیث بن سعد نے سعید مقبری کے حوالے سے عطاء بن میناء کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6818
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «شرح الطحاوية» (500/ 762)، «قصة المسيح - عليه السلام -» (ص 59): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6779»