کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ تمیم اس امت میں دجال پر سب سے سخت ہیں، ہم اللہ سے دجال کے شر سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 6808
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدِمَ مِنْهُمْ سَبْيٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ عَلَى بَعْضِهِمْ رَقَبَةٌ مِنْ بَنِي إِِسْمَاعِيلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ " ، وَجَاءَتْهُ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا " ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تین باتیں سنی ہیں اس کے بعد میں ہمیشہ بنو تمیم سے محبت کرتا ہوں ایک مرتبہ ان کے کچھ لوگ قیدی ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے ان میں سے ایک قیدی بنو اسمٰعیل سے تعلق رکھتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو جو سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے پھر ایک مرتبہ بنو تمیم کے صدقات آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں دجال کے خلاف سب سے زیادہ سخت یہ لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6808
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. * قال الناشر: سقط هذا الحديث - بتبويبه - من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6769/م»