کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ بعض فتنوں کی جو اللہ جل وعلا مسیح کے ساتھ لوگوں کو آزمائے گا
حدیث نمبر: 6799
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ حُذَيْفَةَ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ ، فقال حذيفة أَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ ، " إِِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ نَارٍ ، وَنَهْرًا مِنْ مَاءٍ ، فَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ : مَاءٌ ، وَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ : نَارٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ ، فَلْيَشْرَبْ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ ، فَإِِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَاءً " ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھ تک یہ بات پہنچی ہے دجال کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انتہائی بے حیثیت ہو گا۔ “ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دجال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کیا کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ پر انکار کرنا کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں ہوں گی یہ روایت سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کی متضاد نہیں ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ وہ ایسا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ہو گا کہ اس کے ساتھ بہتے ہوئے پانی کی نہر ہو گی اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ وہ پانی ہے وہ پانی نہیں ہو گا اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہو گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ پر انکار کرنا کہ دجال کے ساتھ پانی کی نہریں ہوں گی یہ روایت سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کی متضاد نہیں ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ وہ ایسا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ہو گا کہ اس کے ساتھ بہتے ہوئے پانی کی نہر ہو گی اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ وہ پانی ہے وہ پانی نہیں ہو گا اس طرح ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہو گا۔