کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسیح کے نکلنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 6790
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا بِالْعَمَلِ سِتًّا : الدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَدَابَّةَ الأَرْضِ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ ، وَخُوَيْصَةَ أَحَدِكُمْ " .
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں موجود تھے ہم اس کے نیچے موجود تھے پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھانک کر دریافت کیا: تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے ہو۔ ہم نے عرض کی: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نمودار نہیں ہوتیں، سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال، دھواں، سیدنا عیسیٰ بن مریم (کا نزول)، دابۃ الارض، یاجوج و ماجوج کا نکلنا، مشرق میں زمین میں دھنسنا، مغرب میں زمین میں دھنسنا اور جزیره عرب میں دھنسنا اور ایک آگ ہو گی، جو فلاں مقام سے نکلے گی (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: وہ ان لوگوں کے ساتھ آرام کرے گی جہاں وہ لوگ آرام کریں گے اور وہ ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی جہاں وہ لوگ پڑاؤ کریں گے۔
شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے تاہم اس سند کے ساتھ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6790
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (759): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6752»