کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر تیسری علامت جو عربوں میں دجال کے بندھن سے نکلنے پر ظاہر ہوگی، اللہ ہمیں اور ہر مسلمان کو اس کے شر اور فتنے سے بچائے
حدیث نمبر: 6788
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُمِّيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ ، وَهُوَ كَائِنٌ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الأُمَّةُ ، إِِنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي وَلا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ ، أَلا إِِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ وَأَصْحَابَهُ رَكِبُوا بَحْرَ الشَّامِ ، فَانْتَهَوْا إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهِ ، فَإِِذَا هُمْ بِدَهْمَاءَ تَجُرُّ شَعْرَهَا ، قَالُوا : مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ : الْجَسَّاسَةُ أَوِ الَجَاسِسَةُ ، قَالُوا : أَخْبِرِينَا ، قَالَتْ : مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ عَنْ شَيْءٍ وَلا سَائِلَتِكُمْ عَنْهُ ، وَلَكِنِ ائْتُوا الدَّيْرَ ، فَإِِنَّ فِيهِ رَجُلا بِالأَشْوَاقِ إِِلَى لِقَائِكُمْ ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ ، فَإِِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ إِِلَى سَارِيَةٍ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ ؟ وَمَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، قَالَ : فَمَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، قَالَ : فَمَا فَعَلْتِ الْعَرَبُ ؟ قَالُوا : خَرَجَ فِيهِمْ نَبِيٌّ بِأَرْضِ تَيْمَاءَ ، قَالَ : فَمَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالُوا : فِيهِمْ مَنْ صَدَّقَهُ ، وَفِيهِمْ مَنْ كَذَّبَهُ ، قَالَ : أَمَا إِِنَّهُمْ إِِنْ يُصَدِّقُوهُ وَيَتَّبِعُوهُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بُيُوتُكُمْ ؟ قَالُوا : مِنْ شَعَرٍ وَصُوفٍ تَغْزِلُهُ نِسَاؤُنَا ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ ؟ قَالُوا : يُؤْتِي جَنَاهُ فِي كُلِّ عَامٍ ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَيْهَاتَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِِنِّي لَوْ قَدْ حُلِلْتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَمْ يَبْقَ مَنْهَلٌ إِِلا وَطِئْتُهُ إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ ، فَإِِنَّهُ لَيْسَ لِي عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ طَيْبَةُ ، حَرَّمْتُهَا كَمَا حَرَّمَ إِِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا فِيهَا نَقْبٌ فِي سَهْلٍ وَلا جَبَلٍ إِِلا وَعَلَيْهِ مَلَكَانِ شَاهِرَا السَّيْفِ يَمْنَعَانِ الدَّجَّالَ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
امام شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ اکٹھے ہو جاؤ تو لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو میں نے تمہیں کسی رغبت یا کسی پریشانی کے نازل ہونے کی وجہ سے نہیں بلایا ہے البتہ تمیم داری نے مجھے بتایا کہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، تو ہوا نے انہیں سمندر میں موجود کسی جزیرے تک پہنچا دیا وہاں ایک جانور موجود تھا اس کا یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ مذکر ہے یا مونث ہے کیونکہ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے، تو میں نے دریافت کیا: تم کون ہو۔ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ تو اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی نہ ہی تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کروں گی البتہ وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا محتاج ہے کہ وہ تمہیں کوئی اطلاع دے اور اس بات کا بھی ضرورت مند ہے کہ تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کرے تو وہ اس عبادت خانے تک آئے وہاں ایک شخص تھا جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے ہیں۔ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا عربوں نے ان کی پیروی کر لی ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے، پھر اس نے دریافت کیا: اہل فارس کا کیا حال ہے۔ ان لوگوں نے بتایا: وہ ابھی اس پر غالب نہیں آئے۔ اس نے کہا: وہ عنقریب اہل فارس پر غالب آ جائیں گے پھر اس نے دریافت کیا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے۔ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے۔ ان لوگوں نے بتایا: وہ پیداوار دے رہا ہے، پھر وہ شخص اچھلا، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ غالب آ جائے گا (یعنی اپنے آپ کو چھڑا لے گا) ہم نے کہا: تم کون ہو۔ اس نے کہا: میں دجال ہوں، میں ساری روئے زمین کو روند دوں گا البتہ مکہ اور طیبہ (نہیں جا سکوں گا)
(راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے گروہ تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ) طیبہ ہے وہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا۔
(راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے گروہ تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ) طیبہ ہے وہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 6789
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلاةُ جَامِعَةً ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ ، فَإِِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ ، فَقَالُوا : مَنْ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَةُ ، قَالُوا : أَخْبِرِينَا ؟ قَالَتْ : مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ ، وَلَكِنَّ هَا هُنَا مَنْ هُوَ فَقِيرٌ إِِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ ، فَإِِذَا بِرَجُلٍ مَرِيرٍ مُصَفَّدٍ بِالْحَدِيدِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، قَالَ : هَلْ بُعِثَ النَّبِيُّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ تَبِعَتْهُ الْعَرَبُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ ، قَالَ : مَا فَعَلَتْ فَارِسُ ؟ قَالُوا : لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا ، قَالَ : أَمَا إِِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ مَلأَى ، قَالَ : فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ ؟ قَالُوا : قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ وَثْبَةً ، حَتَّى خَشِينَا أَنْ سَيَغْلِبَ ، فَقُلْنَا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الدَّجَّالُ ، أَمَا إِِنِّي سَأَطَأُ الأَرْضَ كُلَّهَا إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَذِهِ طَيْبَةُ لا يَدْخُلُهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” چھ (نشانیوں کے ظہور پذیر) ہونے سے پہلے عمل کر لو، دجال، دھواں، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا۔ “