کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ اس تخت کی جو ابن صیاد ان دنوں میں دیکھتا تھا
حدیث نمبر: 6784
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، قَالَ : وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى ؟ قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَى عَرْشَ إِِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، قَالَ : انْظُرْ مَا تَرَى ، قَالَ : أَرَى صَادِقِينَ وَكَاذِبِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لُبِسَ عَلَى نَفْسِهِ " ، فَدَعَاهُ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ لوگوں سمیت ابن صیاد کی طرف گئے، یہاں تک کہ ان حضرات نے اسے بنو مغالہ کی عمارت کے قریب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا ان دنوں ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا اسے یہ پتہ نہیں چل سکا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پشت پر اپنا ہاتھ مارا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا: میں اللہ اور (اس کے سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: تم کیا چیز دیکھتے ہو۔ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: میں نے تمہارے لئے ایک بات سوچی ہے۔ ابن صیاد نے کہا: وہ دخ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم دفع ہو جاؤ تم اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکو گے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم اس تک پہنچ بھی گئے تو اس پر غالب نہیں آ سکو گے اور اگر تم اس تک نہ پہنچے تو پھر اسے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔
ابن شہاب کہتے ہیں: سالم نے یہ بات بیان کی ہے میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے آپ کو دیکھنے سے پہلے آپ اس کی طرف سے کوئی بات سن لیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، جس میں سے بھنبھناہٹ کی آواز آ رہی تھی، جب ابن صیاد کی ماں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتی (تو یہ زیادہ بہتر تھا)۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں ہر نبی نے اپنی قوم کو (اس سے) ڈرایا ہے۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں، جو کسی بھی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم لوگ یہ بات جان لو کہ وہ کانا ہو گا اور بے شک اللہ تعالیٰ کا نا نہیں ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم اس تک پہنچ بھی گئے تو اس پر غالب نہیں آ سکو گے اور اگر تم اس تک نہ پہنچے تو پھر اسے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔
ابن شہاب کہتے ہیں: سالم نے یہ بات بیان کی ہے میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں سے خود کو چھپانے کی کوشش کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے آپ کو دیکھنے سے پہلے آپ اس کی طرف سے کوئی بات سن لیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، جس میں سے بھنبھناہٹ کی آواز آ رہی تھی، جب ابن صیاد کی ماں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کی شاخوں کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے ایسے ہی رہنے دیتی (تو یہ زیادہ بہتر تھا)۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اس سے ڈرا رہا ہوں ہر نبی نے اپنی قوم کو (اس سے) ڈرایا ہے۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں، جو کسی بھی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم لوگ یہ بات جان لو کہ وہ کانا ہو گا اور بے شک اللہ تعالیٰ کا نا نہیں ہے۔