کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ابن صیاد کو دیکھا
حدیث نمبر: 6783
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، فَقَالَ : هُوَ الدَّخُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، قَالَ : لا ، إِِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ ، فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ابن صائد سے ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے راوی کہتے ہیں: ابن صائد اس وقت لڑکوں کے ساتھ (کھیل رہا تھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے (حقیقی اور سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں سمندر پر ابلیس کا تحت نظر آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں کچھ سچے اور کچھ جھوٹے لوگوں کو دیکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا معاملہ مشتبہ ہو چکا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔