کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ انبیاء نے اپنی امتوں کو مسیح کے فتنے سے خبردار کیا، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 6781
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِِلا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، وَإِِنَّهُ كَائِنٌ فِيكُمْ " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے اتنے سوالات نہیں کئے جتنے سوالات میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی لوگ یہ کہتے ہیں: اس کے ساتھ نہریں اور کھانا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سب کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیر ترین ہو گا۔