کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6773
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حِمَاسٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتُتْرَكَنَّ الْمَدِينَةُ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَتْ ، حَتَّى يَدْخُلَ الْكَلْبُ فَيُغَذِّي عَلَى بَعْضِ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، أَوْ عَلَى الْمِنْبَرِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلِمَنْ تَكُونُ الثِّمَارُ ذَلِكَ الزَّمَانَ ؟ قَالَ : " لِلْعَوَافِي : الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ " .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک عصاء تھا اس وقت مسجد میں (کھجوروں کے) کچھ گچھے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک گچھا ہلکی قسم کی کھجوروں کا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عصاء کے ذریعے اس گچھے کو مارا اور یہ ارشاد فرمایا: یہ صدقہ کرنے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے زیادہ پاکیزہ کھجوریں بھی صدقہ کر سکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا شخص قیامت کے دن ہلکی قسم کی کھجوریں کھائے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! اے اہل مدینہ تم لوگ (اس مدینہ منورہ کو) درندوں کے لئے چھوڑ جاؤ گے کیا تم لوگ جانتے ہو عوافی سے مراد کیا ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے (مراد ہیں)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6773
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (4299). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6735»