کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "وہ بالوں میں چلیں گے" سے مراد یہ ہے کہ وہ اسے پہنیں گے
حدیث نمبر: 6746
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلَكُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ " ، وَهِيَ التِّرَسَةُ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہونگی ان کی آنکھیں ٹڈی کی پتلیوں کی طرح ہونگی ان کے چہرے چوڑے ہوں گے یوں جیسے وہ چمڑے سے بنی ہوئی ڈھالوں کے ہوتے ہیں جب وہ لوگ آئیں گے تو اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں کے ساتھ باندھ دیں گے۔ “