کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ حروریہ اللہ جل وعلا کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں
حدیث نمبر: 6738
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ حَلاقِمَهُمْ ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے لیے آسمان سے نیچے گر جانا، اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں اور جب میں اپنے اور تمہارے درمیان کسی بارے میں تمہارے ساتھ بات کروں، تو جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کی عمریں کم ہونگی عقل کم ہو گی وہ لوگ مخلوق میں سب سے بہتر شخص کی احادیث بیان کریں گے، لیکن وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا تمہارا جہاں کہیں ان سے سامنا ہو تو نہیں قتل کرنا، کیونکہ انہیں قتل کرنے کا قیامت کے دن اس شخص کو اجر ملے گا، جو انہیں قتل کرے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6738
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (921). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6703»