کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا عراق کی طرف نکلنا
حدیث نمبر: 6732
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ ، مَرَّتْ بِبَعْضِ مِيَاهِ بَنِي عَامِرٍ طَرَقَتْهُمْ لَيْلا ، فَسَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلابِ ، فَقَالَتْ : أَيُّ مَاءٍ هَذَا ؟ قَالُوا : مَاءُ الْحَوْءَبِ ، قَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِِلا رَاجِعَةً ، قَالُوا : مَهْلا يَرْحَمُكِ اللَّهُ ، تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِكِ ، قَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِِلا رَاجِعَةً ، إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كَيْفَ بِإِِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلابُ الْحَوْءَبِ " .
ابواسود دؤلی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی جب میں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا میں عراق جانا چاہتا تھا تو عبداللہ بن سلام نے مجھ سے کہا: آپ اہل عراق کے پاس نہ جائیں، کیونکہ اگر آپ ان کے پاس جائیں گے تو وہاں تلوار کی دھار آپ کو بھی لگ سکتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھ سے ارشاد فرمائی تھی۔ ابواسود کہتے ہیں: میں نے دل میں سوچا میں نے آج کے دن کی طرح کا ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو جنگجو بھی ہو اور لوگوں کے ساتھ اس طرح بات چیت بھی کرتا ہو جس طرح یہ کرتے ہیں (ان کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6732
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (474). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6697»