کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں بدعات کے فرقے اور ان کے لوگ ظاہر ہوں گے
حدیث نمبر: 6731
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِِنَّ الْيَهُودَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً أَوِ اثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَالنَّصَارَى عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ، وَتَتَفَرَّقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً " .
قیس بیان کرتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (عراق کی طرف) آئیں، تو ان کا گزر بنو عامر کے پانی کے چشموں کے پاس سے ہوا انہوں نے رات کے وقت وہاں پڑاؤ کیا اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی تو انہوں نے دریافت کیا: یہ پانی کون سا ہے۔ لوگوں نے بتایا، یہ آب حواب ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا خیال ہے مجھے واپس چلے جانا چاہئے۔ لوگوں نے کہا: ٹھہر جائیں اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے آپ آگے بڑھیں تاکہ مسلمان آپ کو دیکھ لیں اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے کوئی بہتری کی صورت پیدا کر دے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا خیال ہے مجھے واپس چلے جانا چاہئے، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم (یعنی ازواج مطہرات) میں سے کسی ایک کا کیا عالم ہو گا جب اس پر ” حواب “ کے کتے بھونکیں گے۔ “