کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں جھوٹ اور وعدہ خلافی کے ظہور پر موٹاپا غالب آئے گا
حدیث نمبر: 6729
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ اللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لا ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلا يُوفُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اے عبداللہ بن عمرو! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تم بچے کھچے (یعنی کمینے) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے۔ انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ان لوگوں کے عہد اور ان کی امانتیں اختلاط کا شکار ہو جائیں گے اور وہ لوگ اس طرح ہو جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے سے پیوست کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! پھر مجھے کیا کرنا چاہئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ کام کرو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ دو جسے تم منکر قرار دو اور تم صرف اپنی ذات کے لئے کام کرو اور عام لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6729
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1840): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6694»