کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں آدمی قسم اور گواہی میں جلدی کرے گا
حدیث نمبر: 6727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ يَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ " .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج جس جگہ میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ، پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی ایسی قسم پر گواہی دے گا، جس کے بارے میں اس سے مطالبہ نہیں کیا گیا ہو گا، تو جو شخص جنت میں جانا چاہتا ہے وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑے، کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا اور جس شخص کو اچھائی اچھی لگتی ہو اور برائی بری لگتی ہو وہ مومن ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6727
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (699). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6692»