کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "حتیٰ کہ علم اٹھایا جائے" سے مراد اس علم کے ماہرین کا جانا ہے جو صلی اللہ علیہ وسلم کا علم جانتے ہیں، نہ کہ قیامت سے پہلے ان کا علم اٹھایا جائے گا
حدیث نمبر: 6719
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ اللَّهَ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ ، حَتَّى إِِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالا ، فَسُئِلُوا ، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ وہ وقت ہے جس میں علم کو اٹھا لیا جائے گا۔ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام لبید بن زیاد تھا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا علم کو اٹھا لیا جائے گا، حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے اور ذہنوں نے اسے محفوظ کر لیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو تمہارے بارے میں یہ سمجھتا تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے سمجھدار شخص ہو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب موجود تھی (لیکن اس کے باوجود وہ گمراہ ہو گئے)
راوی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے سچ بیان کیا ہے کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کروں کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ سب سے پہلے خشوع و خضوع کو اٹھایا جائے گا اور پھر تمہیں ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا، جو خشوع و خضوع والا ہو۔
راوی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے سچ بیان کیا ہے کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کروں کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ سب سے پہلے خشوع و خضوع کو اٹھایا جائے گا اور پھر تمہیں ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا، جو خشوع و خضوع والا ہو۔