کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ کچھ اقوام کی وصف جن کے ہاتھوں اس امت کا فساد ہوگا
حدیث نمبر: 6713
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ لِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنِي حَبِيبِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " إِِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ " .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا، یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا اس نے مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کئے (اور یہ چیز عطا کی) کہ میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی، جہاں تک میرے لئے زمین کو لپیٹا گیا ہے میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو کہ وہ دشمن انہیں ہلاکت کا شکار کر دے اور وہ انہیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگیں، تو پروردگار نے فرمایا: اے محمد! جب میں کسی کو کچھ عطا کر دوں، تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے میں نے تمہاری امت کو یہ چیز عطا کی کہ وہ عمومی قحط کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں ہوں گے اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو گا، جو انہیں ختم کر دے گا البتہ میں انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دوں گا، یہاں تک کہ زمین سے دور دراز کے لوگ اکٹھے ہوں گے وہ ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے ایک دوسرے کو فنا کریں گے ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) میری امت کے کچھ قبائل ترکیوں اور بتوں کی پرستش کرنے والوں کی طرف واپس جائیں گے اور مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ہے جب ان کے درمیان تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ قیامت تک ان سے اٹھائی نہیں جائے گی اور عنقریب میری امت میں تیس کے قریب جھوٹے کذاب ظاہر ہوں گے میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا اور اس کی مدد کی جاتی رہے گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں صحیح لفظ ” شرک “ ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں صحیح لفظ ” شرک “ ہے۔