کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ فتنوں کے وقوع پر مسلمان موت کی تمنا کریں گے
حدیث نمبر: 6707
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ " .
سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ جو نجاشی کے بھتیجے ہیں وہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ” تم لوگ اہل روم کے ساتھ صلح کرو گے جو امن والی ہو گی، یہاں تک کہ تم اور وہ لوگ مل کر ایک ایسے دشمن کے ساتھ جنگ کریں گے جو ان کے علاوہ ہو گا تو تم لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ تم لوگ مال غنیمت حاصل کرو گے پھر تم لوگ واپس آؤ گے یہاں تک کہ تم ٹیلوں والی چراگاہ میں پڑاؤ کرو گے، تو اہل روم میں سے ایک شخص کہے گا: صلیب غالب ائی ہے اور مسلمانوں میں سے ایک شخص کہے گا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا ہے تو وہ مسلمان ان کی صلیب کی طرف بڑھے گا جو اس سے زیادہ دور نہیں ہو گی اور وہ اسے توڑ دے گا تو رومی اپنے صلیب کو توڑنے والے شخص کی طرف بڑھیں گے اور اس کی گردن اڑا دیں گے، مسلمان اپنے اسلحے کی طرف جائیں گے اور لڑائی شروع کر دیں گے تو مسلمانوں کے گروہ کو اللہ تعالیٰ شہادت کے ذریعے عزت عطا کرے گا۔ اہل روم رومیوں کے بادشاہ سے کہیں گے ہم عربوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہیں پھر وہ زبردست جنگ کے لئے اکٹھے ہوں گے اور 80 جھنڈوں کے نیچے اکٹھے ہو کر تمہاری طرف آئیں گے، جن میں سے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے۔