کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ اس خبر سے مراد اللہ کی کلمہ اسلام کو مٹی اور اون کے گھروں میں داخل کرنا ہے نہ کہ پورا اسلام
حدیث نمبر: 6701
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلا وَبَرٍ ، إِِلا أُدْخِلَ عَلَيْهِمْ كَلِمَةَ الإِِسْلامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ ، أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ " .
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو آپ ہمیں ساتھ لے کر ہوازن کی طرف روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم کفار کے بیری کے درخت کے پاس سے گزرے یہ وہ بیری کا درخت تھا جس کے اردگرد وہ لوگ اعتکاف کیا کرتے تھے وہ لوگ اسے ذات انواط کہتے تھے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمارے لئے بھی کوئی ذات انواط مقرر کر دیں جس طرح کفار کا ذات انواط ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو وہی ہو گیا جس طرح بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: تھا۔ ” آپ ہمارے لئے بھی کوئی معبود بنا دیں جس طرح ان لوگوں کا معبود ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تھا: تم لوگ ایک ایسی قوم ہو جو جاہل ہو۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر ضرور عمل کرو گے۔