کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے آل کسریٰ کے خزانوں کی فتح مسلمانوں پر عطا کی
حدیث نمبر: 6687
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ حَدَّثَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَفْتَحَنَّ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الأَبْيَضَ أَوْ قَالَ : فِي الأَبْيَضِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب تمہارے لئے فارس اور روم کے خزانے فتح کر دیئے جائیں تو تم لوگ کیسی حالت میں ہو گے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہم ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جاؤ گے ایک دوسرے سے حسد رکھو گے۔ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو گے ایک دوسرے سے بغض رکھو گے پھر تم عنقریب غریب مہاجرین کی طرف جاؤ گے اور ان میں سے کچھ کو دوسروں کی گردنوں پر سوار کر دو گے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6687
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 187). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6652»