کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا کی دنیا کی فتح مسلمانوں پر قحط کے بعد ہوگی جو انہیں پہنچے گی
حدیث نمبر: 6685
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِِلَى مَسْجِدِكَ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : تَعَفَّفْ " ، قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : اصْبِرْ " ، يَا أَبَا ذَرٍّ ، " أَرَأَيْتَ إِِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ مِنَ الدِّمَاءِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِِنْ لَمْ أُتْرَكْ ؟ قَالَ : فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُ ، فَكُنْ فِيهِمْ ، قَالَ : فَآخُذُ سِلاحِي ؟ قَالَ : إِِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيهِ ، وَلَكِنْ إِِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِِثْمِكَ وَإِِثْمِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جناب ابوطالب بیمار ہو گئے قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابوجہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا ان لوگوں نے جناب ابوطالب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی اور بولے: آپ کے بھتیجے ہمارے معبودوں پر تنقید کرتے ہیں۔ جناب ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آپ کی شکایتیں لگا رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا جان! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے۔ عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا إِلهَ إِلَّا الله۔ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا: کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ” ص، قرآن کی قسم ہے، جو نصیحت کرنے والا ہے۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے ” بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے۔ “