کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "صدقہ" سے مراد فرض صدقہ ہے نہ کہ نفلی
حدیث نمبر: 6681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ ، حَتَّى يُخْرِجَ الرَّجُلُ زَكَاةَ مَالِهِ ، فَلا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ " .
ابونضرہ بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا: عنقریب عراق کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف (اناج کا) ایک قفیز یا ایک درہم بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: ایسا کس وجہ سے ہو گا۔ انہوں نے فرمایا: یہ عجمیوں کی طرف سے ہو گا۔ وہ اسے نہیں آنے دیں گے پھر انہوں نے فرمایا: عنقریب اہل شام کی یہ صورت حال ہو گی کہ ان کی طرف ایک دینار اور ایک مد بھی نہیں آئے گا۔ ہم نے دریافت کیا: یہ کس کی طرف سے ہو گا۔ انہوں نے جواب دیا: یہ اہل روم کی طرف سے ہو گا۔ پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” میری امت کے آخر میں ایسا خلیفہ ہو گا، گنتی کے بغیر مٹھیاں بھر بھر کے مال دے گا۔ “