کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ ان کے بعد سب سے پہلے مسلمانوں کی فتح جزیرہ عرب کی ہوگی
حدیث نمبر: 6672
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ نَافِعَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الدَّجَّالَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ أَتَوْهُ لِيُسْلِمُوا عَلَيْهِ ، وَعَلَيْهِمُ الصُّوفُ ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ ، فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ ، فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ عَلَيْكُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سیدنا سفیان بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” یمن فتح ہو جائے گا کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے، وہ اپنے بال بچوں اور اپنے فرمانبرداروں (یعنی غلاموں) کو سوار کر کے ساتھ لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ علم رکھتے تو مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔ شام فتح ہو گا تو کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے بال بچوں اور اپنے پیروکاروں (یعنی غلاموں اور کنیزوں) کو سوار کر کے لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے پھر عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے۔ وہ اپنے بال بچوں اور اپنے فرمانبرداروں (یعنی غلاموں اور کنیزوں) کو سوار کر کے ساتھ لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ منورہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: لفظ «یبسون» کا مطلب تیزی سے چلتے ہوئے آنا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: لفظ «یبسون» کا مطلب تیزی سے چلتے ہوئے آنا ہے۔