کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ام حرام بنت ملحان کی موت کی وصف
حدیث نمبر: 6667
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَأَطْعَمَتْهُ ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ يَشُكُّ أَيُّهُمَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ، فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ ، فَهَلَكَتْ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت مسجد نبوی میں سویا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے ذریعے مجھے مارا اور ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں یہاں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری آنکھ لگ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہیں اس میں سے نکال دیا جائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجھے کیا کرنا چاہئے۔ کیا میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑائی کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو اور ہدایت کے زیادہ قریب ہو تم اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو اور وہ تمہیں جہاں جانے کے لئے کہیں تم وہاں چلے جاؤ۔