کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ بادشاہوں کو ضرورت کے مطابق ہمارے بیان کردہ خلفاء کا نام بھی دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 6658
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ، وَسَيَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ مَا لا يَعْلَمُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يُؤْمَرُونَ ، فَمَنْ أَنْكَرَ بَرِئَ ، وَمَنْ أَمْسَكَ سَلِمَ ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت امام اوزاعی نے زہری سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت ابراہیم بن مرہ کے حوالے سے بھی زہری سے سنی ہے تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت امام اوزاعی نے زہری سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت ابراہیم بن مرہ کے حوالے سے بھی زہری سے سنی ہے تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔
حدیث نمبر: 6659
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَسَمِعَهُ عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” عنقریب میرے بعد کچھ خلفاء ہوں گے جو اس کے مطابق عمل کریں گے جو وہ علم رکھتے ہیں اور وہ کام کریں گے، جن کا انہیں حکم دیا گیا ہے پھر ان کے بعد کچھ خلفاء آئیں گے جو وہ عمل کریں گے جس کا وہ علم نہیں رکھتے وہ کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا، تو جو ان کا انکار کرے وہ بری ذمہ ہو گا لیکن جو شخص راضی رہے اور پیروی کرے گا۔ (اس کا معاملہ مختلف ہو گا) “