کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ قیامت تک لوگوں کے امور کی قیادت قریش سے ہوگی نہ کہ دوسروں سے
حدیث نمبر: 6655
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ اثْنَانِ " .
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے آپ کے ساتھ بات چیت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ واپس چلی جائے، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی کیا رائے ہے کہ میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں (یعنی اگر آپ کا وصال ہو چکا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آ جانا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6655
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - تقدم (6233). تنبيه!! رقم (6233) = (6266) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6621»