کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں پہلی حادثہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے
حدیث نمبر: 6646
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً ، إِِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً ، وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ان لوگوں سے پہلے ان کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لئے پیش رو اور پہلے جانے والا بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی اُمت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں عذاب کا شکار کرتا ہے جبکہ ان کا نبی زندہ ہوتا ہے تو وہ اس نبی کی آنکھوں کو ان لوگوں کی ہلاکت کے ذریعے ٹھنڈا کرتا ہے۔ جب وہ لوگ اس نبی کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔ “