کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 6644
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ ضَجْنَانَ ، سَمِعَ بُغَامَ نَاقَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَعَرَفَهُ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنِي ؟ قَالَ : خَيْرٌ ، إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِبَرَاءَةَ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا انْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي ؟ قَالَ : خَيْرٌ ، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُبَلِّغُ غَيْرِي ، أَوْ رَجُلٌ مِنِّي " ، يَعْنِي عَلِيًّا .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب وہ لوگ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ساتھ آ گئے، یہاں تک کہ جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اونٹنی کی آواز سنی۔ وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعاء کی مخصوص آواز ہے شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہوں، تو ہم آپ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے لیکن اس اونٹنی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ امیر کے طور پر آئے ہیں یا قاصد کے طور پر آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں بلکہ قاصد کے طور پر آیا ہوں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برأت کے ہمراہ بھیجا ہے جسے میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے پڑھ دوں گا۔
(راوی کہتے ہیں:) پھر ہم لوگ مکہ آ گئے ترویہ سے ایک دن پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا (حج کے احکام بیان کئے) جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سورت توبہ کی تلاوت کی اور اسے مکمل طور پر ختم کیا پھر ہم لوگ ان کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا انہوں نے لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دی۔ وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ توبہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اسے مکمل طور پر ختم کیا پھر جب قربانی کا دن آیا اور ہم لوگ واپس آئے تو جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں واپس جانے کے بارے میں بتایا اور قربانی کے بارے میں اور دیگر مناسک کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ برأت کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کیا۔ جب پہلی روانگی کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا: وہ کیسے روانہ ہوں گے اور کیسے رمی کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دی جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ توبہ کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل تلاوت کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6644
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق على صحيح كشف الأستار» (2485). * [وَأَنْتَ مَعِي عَلَى الحَوْضِ] قال الشيخ: زيادة من «الدُّرِّ المنثور» (3/ 210)، وقد عزاه لابن حبَّان، وابن مردويه، وهي ثابتة في بعض روايات القصَّة، انظر تعليقي على «صحيح كشف الأستار» (2485). تنبيه!! ما بين المعقوفين زيادة من «طبعة باوزير» وليس موجود في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6610»