کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد قیامت تک نبوت کے ہونے کی نفی کی
حدیث نمبر: 6643
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، غَيْرَ أَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (امیرالحج بنا کر) بھیجا جب وہ ضجنان کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کی آواز کو سنا وہ اسے پہچان گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: میرا کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا: بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (کفار کے ساتھ کئے گئے ہر معاہدے) سے لاتعلقی (کے اعلان کے ہمراہ) بھیجا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ واپس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا کیا معاملہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہتر ہے، تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو لیکن صورت حال یہ تھی کہ میرے علاوہ یا مجھ سے تعلق رکھنے والے (میرے کسی خاندانی عزیز) کے علاوہ اور کوئی شخص یہ اعلان نہیں کر سکتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔