کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر وصف کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا
حدیث نمبر: 6627
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ أَبُو تُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَقَ بِهِ أَصْحَابُهُ ، وَشَكُّوا فِي غُسْلِهِ ، وَقَالُوا : نُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ ! فَأَرْسَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِمْ سِنَةً ، فَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَإِِذَا مُنَادٍ يُنَادِي مِنَ الْبَيْتِ لا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ : أَنِ اغْسِلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، قَالَتْ : فَغَسَّلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَهُ غَيْرُ نِسَائِهِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے لئے اکٹھے ہوئے تو ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی اسی طرح اتاریں جس طرح اپنے مرحومین کے کپڑے اتارتے ہیں یا پھر ہم آپ کے جسم پر کپڑے رہنے کے ہمراہ آپ کو غسل دیدیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نیند طاری کی یہاں تک کہ ان میں سے موجود ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی پھر گھر کے کسی کنارے سے کسی منادی نے کہا: لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کون ہے۔ (اس نے کہا:) تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دو یہاں تک کہ آپ کی قمیص آپ کے جسم پر موجود ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو ان سب لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہوا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں غسل دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص آپ کے جسم پر موجود تھی۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلتے رہے اور قمیص کے نیچے سے آپ کے جسم کو ملتے رہے۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا اور انہوں نے اپنے سینے کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک دی ہوئی تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی چیز دکھائی نہیں دی جو میت کی طرف سے دکھائی دیتی ہے (یعنی آپ کے جسم سے کوئی بول یا براز خارج نہیں ہوا)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی چیز دکھائی نہیں دی جو میت کی طرف سے دکھائی دیتی ہے (یعنی آپ کے جسم سے کوئی بول یا براز خارج نہیں ہوا)۔