کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کو رو رہی تھیں جب اللہ جل وعلا نے انہیں اپنی جنت کی طرف اٹھایا
حدیث نمبر: 6621
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ ، يَا أَبَتَاهُ إِِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ ، يَا أَبَتَاهُ جُنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ کا سر اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ابا جان آپ کو آج کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: اے فاطمہ! آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ” ہائے ابا جان آپ نے اپنے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا: ہائے ابا جان آپ کو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کتنا قرب حاصل تھا ہائے ابا جان جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔ ہائے ابا جان سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو ہم آپ کے وصال کی اطلاع دیتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر دیا تو میرا گزر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے ہوا، انہوں نے فرمایا: اے انس تم نے کیسے یہ برداشت کیا کہ تم اللہ کے رسول پر مٹی ڈالو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6621
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مختصر الذي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6587»