کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیق اعلیٰ سے ملنے کی دعا اس بیماری میں تھی جب وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے اور گردن کے درمیان تھے
حدیث نمبر: 6618
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْغَتْ إِِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ، وَهِيَ مُسْنِدَتُهُ إِِلَى صَدْرِهَا ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لیا جب آپ کو اس سے گھٹن محسوس ہوئی تو آپ نے اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا اور آپ نے فرمایا۔
” اللہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ “
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آپ لوگوں کو ان لوگوں کا سا طرزعمل اختیار کرنے سے منع کرنا چاہ رہے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6618
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6584»