کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر کہ اگر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترکہ کو وراثت بنایا جاتا تو اس کی وراثت جائز نہ ہوتی
حدیث نمبر: 6611
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اللہ کی قسم! میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے۔ اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں گا وہ صدقہ شمار ہو گا۔ “
حدیث نمبر: 6612
أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " وَاللَّهِ لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔