کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میرے گھر والوں کے نفقہ کے بعد" سے مراد ان کی بیویوں کے نفقہ کے بعد ہے
حدیث نمبر: 6610
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی ازواج نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی اپنی وراثت کا مطالبہ کریں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں سے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ ” ہم (انبیاء کرام) کی وراثت نہیں ہوتی ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ “