کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ زر کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6607
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ ، وَفَدَكَ ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِِنَّا لا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، إِِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ " ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ ، وَهَجَرَتْهُ ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلا ، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ ، وَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ اسْتَنْكَرَ وُجُوهَ النَّاسِ ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ ، وَمُبَايَعَتَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ ، فَأَرْسَلَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنِ ائْتِنَا وَلا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَحْضُرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ لا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي ، وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهِمْ ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَقَالَ : إِِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرِ فَضِيلَتَكَ ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ ، وَلَمْ أَنْفَسْ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِِلَيْكَ ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ ، وَكُنَّا نَرَى أَنَّ لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرِ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصِلَ أَهْلِي وَقَرَابَتِي ، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ ، فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِِلا صَنَعْتُهُ ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لأَبِي بَكْرٍ : مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ ، فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاةَ الظُّهْرِ ، رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ ذَكَرَ شَأْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِِلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ ، وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحُرْمَتَهُ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَلا إِِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الأَمْرِ نَصِيبًا ، فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا بِهِ ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا ، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ ، وَقَالُوا : أَصَبْتَ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ .
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ مدینہ منورہ آئے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان کے لئے کچھ عطیات دینے کا حکم دیا ہے تم وہ ان کے درمیان تقسیم کر دو۔ میں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین آپ میری بجائے کسی اور کو یہ ہدایت کر دیجئے۔ انہوں نے فرمایا: اے آدمی تم اسے اپنے قبضے میں لو۔ راوی کہتے ہیں: میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اسی دوران سیدنا عمر یرضی اللہ عنہ کا غلام یرفا آیا اس نے کہا: سیدنا عثمان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم تشریف لائے ہیں (راوی بیان کرتے ہیں) مجھے یاد نہیں ہے کہ اس نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں کیا تھا۔ وہ لوگ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ راوی کہتے ہیں تھوڑی دیر بعد وہ غلام پھر آیا اور کہا: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اندر آئے تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ میرے اور ان صاحب کے درمیان فیصلہ کر دیجئے۔ ان دونوں صاحبان کا اس وقت اس چیز کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا جو اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال میں سے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا تھا۔ حاضرین نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ ان دونوں صاحبان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے۔ اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے مطمئن کر دیجئے کیونکہ ان کا اختلاف طویل ہو چکا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو چھوڑ کے جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ “
انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہی کلمہ کہا: تو ان دونوں نے یہی جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں کو اس مال فے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اپنے نبی کو عطا کیا تھا وہ اس نے اپنے نبی کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ” اور وہ چیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کی ہے اس کے بارے میں تم نے اپنے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائی ہیں۔ “ تو یہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھی۔ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو چھوڑ کر اسے اپنے لئے نہیں رکھا اور نہ ہی اس کے بارے میں آپ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو آپ کے درمیان تقسیم کیا۔ اسے آپ کے درمیان پھیلایا یہاں تک کہ اس مال میں سے یہ تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کی خوراک کا انتظام کرتے تھے۔
بعض اوقات معمر نامی راوی نے یہاں یہ لفظ نقل کئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی خوراک کو روک کر رکھتے تھے اور جو مال باقی بچ جاتا تھا۔ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں۔ میں اس بارے میں وہی کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے۔ پھر سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: آپ دونوں صاحبان یہ گمان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ظلم کرنے والے اور گناہ کرنے والے تھے، حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے تھے نیکی کرنے والے تھے حق کے پیروکار تھے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے اس کا نگران بنایا گیا۔ یہ میری حکومت کے دو سال کے عرصے کی بات ہے میں نے بھی اس کے بارے میں وہی کچھ کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کرتے رہے۔ آپ دونوں صاحبان کا یہ گمان تھا کہ میں اس کے بارے میں ظلم کرنے والا اور گناہ کرنے والا ہوں حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں اس کے بارے میں سچا تھا نیکوکار تھا۔ حق کی پیروی کرنے والا تھا پھر آپ دونوں صاحبان میرے پاس آئے۔ یہ صاحب یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے یہ اپنے بھتیجے کی وراثت کے طلب گار تھے اور یہ صاحب یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور یہ اپنی بیوی کی وراثت کا مجھ سے مطالبہ کر رہے تھے تو میں نے آپ دونوں سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ہم لوگوں کی وراثت نہیں ہوتی ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ “
(سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس کے بعد مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے آپ دونوں کے سپرد کر دوں۔ میں نے آپ دونوں سے اللہ کے نام کا عہد اور پختہ وعدہ لیا کہ آپ اس کے بارے میں وہی عمل کرتے رہیں گے جو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا اور خلیفہ بننے کے بعد میں نے کیا تو آپ دونوں صاحبان نے یہ کہا: کہ آپ اس شرط پر یہ ہمارے سپرد کر دیں۔ اب آپ اس کے بارے میں دوسرے فیصلے کے طلب گار ہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں۔ میں آپ دونوں کے درمیان اس کے بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں دوں گا اگر آپ دونوں اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو آپ یہ میرے سپرد کر دیں۔
راوی کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس وہ زمینیں آ گئیں پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں رہیں پھر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں پھر سیدنا حسن بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں پھر سیدنا زید بن حسن کے پاس رہیں۔
معمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں پھر سیدنا عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6607
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2629): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6573»