کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے رخصت ہوتے وقت کسی چیز کی وصیت نہیں کی جب وہ اللہ کے وعدہ کردہ ثواب کی طرف نکلے
حدیث نمبر: 6606
أَخْبَرَنَا الْحُسْيَنُ بْنُ إِِسْحَاقَ الأَصْفَهَانِيُّ بِالْكَرْج ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ حُرَيْثٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " تَسْأَلُونِي عَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا ، وَلا دِرْهَمًا ، وَلا شَاةً ، وَلا بَعِيرًا ، وَلا أَوْصَى بِشَيْءٍ " .
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وراثت کا مطالبہ کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں مال فے کے طور پر عطا کیا تھا اور فدک میں عطا کیا تھا اور خیبر کے خمس میں سے جو کچھ باقی بچتا تھا (اس میں سے وراثت کا مطالبہ کیا) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” بے شک ہم (یعنی انبیاء کرام) کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم لوگ جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے اس مال میں سے کھاتے رہیں گے۔ “
(سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:) اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کی اس صورت حال میں، میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، جو صورت حال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں رہی اور میں اسے بھی اسی طرح استعمال کروں گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے استعمال کرتے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کوئی بھی چیز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس بات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لاتعلقی اختیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ اس دوران انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی کوئی بات نہیں کی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت دفن کر دیا۔ انہوں نے اس بات کی اطلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی نہیں دی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی (یعنی پڑھائی)۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگ پھر بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لاتعلق ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کرنے اور ان کی بیت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حالانکہ ان مہینوں کے دوران انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے ہاں آئیں اور آپ کے ساتھ کوئی شخص نہ آئے۔ اصل میں وہ یہ بات پسند نہیں کر رہے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس وقت موجود ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ اکیلے ان کے پاس نہیں جائیں گئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ میرے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کریں گے۔ اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پاس جاؤں گا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ بولے: اے ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت سے واقف ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے (اس سے بھی واقف ہیں) ہم ایسی کسی بھلائی کا انکار نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے لیکن آپ نے حکومت کے معاملے میں ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کی وجہ سے ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو انہوں نے یہ کہا:۔ ” اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا میرے نزدیک اپنے ذاتی رشتہ داروں اور گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جہاں تک ان اموال کے بارے میں میرے اور آپ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کا تعلق ہے تو میں نے ان کے بارے میں بھلائی سے روگردانی نہیں کی اور میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا میں نے بھی وہی کیا۔ “ تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیعت کے لئے آپ سے شام کے وقت کا وعدہ ہے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کی تو وہ منبر پر چڑھے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا پھر انہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے معاملے کا ذکر کیا اور ان کے بیعت سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا اور اس عذر کا ذکر کیا جو انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا تھا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دعائے مغفرت پڑھی (اور اپنی تقریر ختم کی) پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کو اور ان کی حرمت کو عظیم قرار دیا اور یہ بات بتائی کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی ناراضگی کی وجہ سے یا جو فضل اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہے اس کے انکار کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ حکومت کے معاملے میں ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بھی حصہ ملے گا تو اس حوالے سے ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اس لئے ہمارے ذہن میں کچھ الجھن تھی۔ اس بات پر مسلمان خوش ہو گئے۔ انہوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امر بالمعروف کی طرف رجوع کیا تو مسلمان بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6606
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2549): م مختصرا. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6572»