کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو وصیت کی یا ان سے کچھ ایسی چیزیں چھپائیں جو دوسروں سے چھپائیں
حدیث نمبر: 6604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعَمِّمْ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً ، إِِلا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا ، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبَةً : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ ، لَعَنَ اللَّهِ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " ، مَنَارُ الأَرْضِ : عَلامَةٌ بَيْنَ أَرَضِينَ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت جو آپ نے اس وقت کی جب آپ کے سینے میں سانس اٹک رہی تھی اور آپ کی زبان سے بات ادا نہیں ہو پا رہی تھی (اس وقت کی گئی آپ کی آخری وصیت) یہ تھی نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6604
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (5866). تنبيه!! رقم (5866) = (5896) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6570»