کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وصف کہ وصیت جو انہوں نے لوگوں کے لیے عزم کیا جس کے لیے وہ غسل کر کے مسجد گئے
حدیث نمبر: 6601
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : وَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَمُرْ عُمَرَ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقُلْتُ مِثْلَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ : إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ ، فَمُرْ عُمَرَ ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ " ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ : مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْكَ قَطُّ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ ، فَلَمَّا كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ ، فَمَكَثَ مَكَانَهُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِذَائِهِ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى الصَّلاةَ .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی۔ انہوں نے فرمایا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے۔ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ یا رسول اللہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے لئے کسی بڑے برتن میں پانی رکھو ہم نے ایسا ہی کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے دریافت کیا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ لوگ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لئے انتظار کر رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ وہ پیغام رساں ان کے پاس آیا اس نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ایک نرم دل اور مہربان شخص تھے۔ انہوں نے کہا: اے عمر آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیجئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ ان ایام میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوئی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے۔ ان میں سے ایک سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صاحبان سے کہا: کہ مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان نہ کروں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث انہیں سنائی۔ انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا تاہم انہوں نے یہ فرمایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہارے سامنے اس دوسرے شخص کا نام نہیں لیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کرتے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان نہ کروں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث انہیں سنائی۔ انہوں نے اس کی کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا تاہم انہوں نے یہ فرمایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہارے سامنے اس دوسرے شخص کا نام نہیں لیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔