کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ انتخاب میں اللہ جل وعلا کا برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم تھا
حدیث نمبر: 6594
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ : " إِِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ لِقَائِهِ ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ " ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَبِأَبْنَائِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا مِنَ النَّاسِ ، لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِِسْلامِ وَمَوَدَّتُهُ ، أَلا لا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِِلا سُدَّتْ إِِلا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقُلْتُ : الْعَجَبُ يُخْبِرُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَهَذَا يَبْكِي ، وَإِِذَا الْمُخَيَّرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِِذَا الْبَاكِي أَبُو بَكْرٍ ، وَإِِذَا أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ واپس تشریف لائے۔ آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوں اور میں تم لوگوں کا گواہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں۔ مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم ان میں دلچسپی لو گے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا۔ یہ وہ آخری خطبہ تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (آپ کی روح مبارکہ کو) قبض کر لیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6594
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6560»