کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ یہ کلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جب انہیں دنیا اور آخرت کے درمیان انتخاب دیا گیا
حدیث نمبر: 6592
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لا يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ، وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69 " ، قَالَتْ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے یہ اس بیماری کی بات ہے جس میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے آیا، یہاں تک کہ آپ منبر پر آ کر کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: میں گویا اس وقت بھی حوض کوثر پر کھڑا ہوں، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ایک بندے کے سامنے دنیا اور اس کی زیب و زینت پیش کی گئی تو اس بندے نے آخرت کو اختیار کر لیا۔ حاضرین میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ ہم نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم اپنے اموال اور اپنی جانیں اپنی اولاد آپ کے فدیے کے طور پر دیدیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے۔ اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا گیا۔ (یعنی اس کے بعد آپ کا وصال ہو گیا)