کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر کہ مصٹفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری میں شفا کی دعا کے وقت کیا کہتے تھے
حدیث نمبر: 6591
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ ، وَأَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ، بَلْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ، مَعَ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وإِِسْرَافِيلَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے یہ بات سن رکھی تھی کہ کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اسے دنیا میں رہنے یا آخرت میں (منتقل ہونے) کے درمیان اختیار نہیں دیا جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہوا، یہ کہتے ہوئے سنا حالانکہ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ یہ کہہ رہے تھے۔ ” ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جو نبیوں صدیقین شہداء اور صدیقین کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بہترین ساتھی ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6591
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3104). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6557»