کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میمونہ کے گھر میں شروع ہوئی
حدیث نمبر: 6587
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَتَشَاوَرُوا فِي لَدِّهِ ، فَلَدُّوهُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : " مَا هَذَا ؟ أَفِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَا مِنْ هَا هُنَا ؟ " ، وَأَشَارَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ ، فَقَالُوا : كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِِنْ كَانَ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَقْذِفَنِي بِهِ ، لا يَبْقِيَنَّ أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِِلا لُدَّ إِِلا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، يَعْنِي عَبَّاسًا ، قَالَ : فَلَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ ، وَإِِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا میں نے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائیے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ آپ کی بلغم میں خون آنے لگا۔ ہم آپ کے نکلنے والے بلغم کو خشک انگور کھانے والے کے تھوک سے تشبیہ دیتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باری باری اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے جب آپ کی بیماری زیادہ ہو گئی تو آپ نے ان خواتین سے اجازت طلب کی کہ آپ میرے ہاں رہیں اور وہ خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ دو آدمیوں کے درمیان میں زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے۔ ان میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں دوسرے صاحب کے بارے میں نہیں بتایا، میں نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے بتایا وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6587
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد - وصحَّحه الحافظ في «الفتح» (8/ 148). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6553»