کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین پر قحط سالی کی دعا کی
حدیث نمبر: 6585
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وَمَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي كِنْدَةَ ، قَالَ : يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ ، قَالَ : فَفَزِعْنَا ، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : وَكَانَ مُتَّكِئًا ، فَغَضِبَ ، فَجَلَسَ ، وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا ، فَلْيَقُلْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ شَيْئًا ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لَمَّا لا يَعْلَمُ لا أَعْلَمُ ، فَإِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 ، إِِنَّ قُرَيْشًا دَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسِنِي يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوا فِيهَا ، فَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ ، وَيَرَى الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، جِئْتَ تَأْمُرُ بِصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَقَوْمُكَ هَلَكُوا ، فَادْعُ اللَّهَ ، فَقَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الدخان آية 10 - 11 ، إِِلَى قَوْلِهِ : إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 ، فَيَكْشِفُ عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِِذَا جَاءَ ، ثُمَّ عَادُوا إِِلَى كُفْرِهِمْ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ : يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى سورة الدخان آية 16 ، فَذَلِكَ يَوْمُ بَدْرٍ ، فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا سورة الفرقان آية 77 ، يَوْمَ بَدْرٍ ، وَ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ سورة الروم آية 1 - 3 ، وَالرُّومُ قَدْ مَضَى ، وَقَدْ مَضَتِ الأَرْبَعُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں جنازے میں شریک ہونے کے بعد میرے ہاں واپس تشریف لائے۔ مجھے سر میں درد محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے کہا: ہائے میرا سر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ مجھے یہ کہنا چاہئے اے عائشہ! ہائے میرا سر، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تو کوئی نقصان نہیں ہے اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاتی ہو تو میں تمہیں غسل دوں گا۔ میں تمہیں کفن دوں گا میں تمہاری نماز جنازہ ادا کروں گا پھر میں تمہیں دفن کروں گا۔ میں نے عرض کی: جی ہاں جب آپ ایسا کر لیں گے تو اس کے بعد آپ واپس میرے گھر تشریف لے جائیں گے اور وہاں اپنی نئی زوجہ محترمہ کے ساتھ رات گزاریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کا وصال ہوا۔