کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 6584
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سُحِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَحَرَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ فَعَلَ الشَّيْءَ وَلَمْ يَفْعَلْهُ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ ، قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ ؟ أَتَانِي مَلَكَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي ، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ الآخَرُ : مَطْبُوبٌ ، فَقَالَ : وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعِ نَخْلَةٍ ذَكَرٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ " ، قَالَتْ : وَأَتَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَكَأَنَّ رَأْسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلا اسْتَخْرَجْتَهَا ؟ قَالَ : " قَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْهُ شَرًّا " .
مسروق بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص کندہ میں حدیث بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن دھواں آئے گا تو وہ منافقین کی سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے گا جبکہ مومن کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: ہم اس بات سے گھبرا گئے پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا (انہیں یہ بات بتائی) وہ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ غصے میں آ گئے۔ پھر وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا: اے لوگو! جو شخص کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو شخص علم نہ رکھتا ہو وہ یہ کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ علم ہونے میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی کو جس چیز کے بارے میں علم نہیں ہے وہ اس کے بارے میں یہ کہہ دے۔ میں نہیں جانتا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے۔ ” تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ “
(پھر سیدنا عبداللہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے خلاف دعائے ضرر کی۔ آپ نے دعا کی۔ ” اے اللہ تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی (قحط سالی کے) سات سالوں کے ذریعے ہو۔ “ (سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکار ہونے لگے۔ وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے، ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے دھواں سا محسوس ہوتا تھا۔ ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ دردناک عذاب ہو گا۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ” اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ لوٹ جاتے ہو۔ “ جب وہ عذاب آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ ” جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے۔ “ اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ ” تو عنقریب لزام ہو گا “ اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” الف لام میم رومی مغلوب ہو گئے زمین کے کچھ حصے میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے “ (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) گزر چکے ہیں۔
(پھر سیدنا عبداللہ نے وضاحت کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے خلاف دعائے ضرر کی۔ آپ نے دعا کی۔ ” اے اللہ تو ان لوگوں کے خلاف میری مدد کر جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی (قحط سالی کے) سات سالوں کے ذریعے ہو۔ “ (سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ان لوگوں کو قحط سالی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، یہاں تک کہ وہ لوگ اس قحط سالی کے دوران ہلاکت کا شکار ہونے لگے۔ وہ مردار اور ہڈیاں تک کھانے لگے، ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے دھواں سا محسوس ہوتا تھا۔ ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلہ رحمی کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں جبکہ آپ کی قوم کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لے کر آئے گا، جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور یہ دردناک عذاب ہو گا۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ” اگر ہم تھوڑا سا عذاب کم کر دیں تو تم لوگ دوبارہ لوٹ جاتے ہو۔ “ جب وہ عذاب آیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں سے دور کر دیا تو وہ لوگ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ ” جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے۔ “ اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ ” تو عنقریب لزام ہو گا “ اس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” الف لام میم رومی مغلوب ہو گئے زمین کے کچھ حصے میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے “ (پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) رومیوں والا معجزہ رونما ہو چکا ہے اور دیگر چار (معجزات بھی) گزر چکے ہیں۔