کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد کیا علاج کیا
حدیث نمبر: 6583
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ ، يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَشَعُرْتِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ ؟ قَدْ جَاءَنِي رَجُلانِ ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي ، وَجَلَسَ الآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ : مَطْبُوبٌ ، قَالَ : وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ ، قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ ، قَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ ذِي ذَرْوَانَ " ، قَالَ : فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، فَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤوسُ الشَّيَاطِينِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلا أَحْرَقْتَهُ أَوْ أَخْرَجْتَهُ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَنَا ، فَقَدْ عَافَانِيَ اللَّهُ ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَيْئًا " ، فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ابیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا۔ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی شخص نے آپ پر جادو کیا۔ اس شخص کا نام لبید بن اعصم تھا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ ایک دن یہی حالت رہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں بتا دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے دریافت کیا۔ ان صاحب کو کیا تکلیف ہے۔ دوسرے نے جواب دیا۔ ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں۔ پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: ذروان کے کنویں میں ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے (واپس آ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اس کنویں کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھولی ہوئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سرے یوں تھے جیسے شیاطن کے سر ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اسے نکلوا کیوں نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اس کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان کوئی خرابی پھیلاؤں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے (واپس آ کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اس کنویں کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھولی ہوئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سرے یوں تھے جیسے شیاطن کے سر ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اسے نکلوا کیوں نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اس کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان کوئی خرابی پھیلاؤں۔