کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں منافقین سے کچھ مشقتیں برداشت کیں
حدیث نمبر: 6581
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكِبَ حِمَارًا وَعَلَيْهِ إِِكَافٌ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ ، فَرَكِبَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي بَنِي الْحَارِثِ بنِ الْخَزْرَجِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ ، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَعَبْدَةُ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودُ ، وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلُولٍ ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : لا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَدَعَاهُمْ إِِلَى اللَّهِ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ : أَيُّهَا الْمَرْءُ ، لأَحْسَنُ مِنْ هَذَا إِِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا ، فَلا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا ، وَارْجِعْ إِِلَى رَحْلِكَ ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : بَلِ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا ، فَإِِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَثُورُوا ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا ، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ ، فَدَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعَ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبِيٍّ ، قَالَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْفُ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ بِالْعِصَابَةِ ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ ، شَرِقَ بِذَلِكَ ، فَذَلِكَ الَّذِي عَمِلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مہاجر اور ایک انصاری نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ انصاری نے کہا: اے انصار (میری مدد کے لئے آؤ) مہاجر نے کہا: اے مہاجرین (میری مدد کے لئے آؤ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی۔ آپ نے فرمایا: یہ زمانہ جاہلیت کی طرح پکارنے کا کیا معاملہ ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس چیز کو چھوڑ دو کیونکہ یہ بودار ہے۔ اس پر عبداللہ بن اُبی نے کہا: انہوں نے ایسا کیا ہے، جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو ہم میں سے عزت دار لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ورنہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” یہ چیز بودار ہے “ اس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اس میں قصاص نہیں ہو گا۔ اسی طرح لوگوں کا یہ کہنا: ” یہ چیز قابل مذمت ہے یا اس کی مانند جو دیگر الفاظ ہیں (ان سے یہی مراد ہے)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6581
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (24): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6547»
حدیث نمبر: 6582
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : يَا لِلأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لِلْمُهَاجِرِينَ ، قَالَ : فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا ، فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ : قَدْ فَعَلُوهَا ، لَئِنْ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ ، فَقَالَ عُمَرُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : " دَعْهُ ، لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، يُرِيدُ : أَنَّهُ لا قِصَاصَ فِي هَذَا ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ : فَإِِنَّهَا ذَمِيمَةٌ وَمَا أَشْبَهَهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں محسوس ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے۔ حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، ایک دن اور ایک رات تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی کیفیت رہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے رہے پھر دعا مانگتے رہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کا جواب دیدیا ہے۔ جس کے بارے میں، میں نے اس سے دریافت کیا تھا۔ میرے پاس دو آدمی (یعنی دو فرشتے) آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا، جو میرے پاؤں کے قریب بیٹھا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا: ان صاحب کو کیا تکلیف ہے۔ اس نے جواب دیا: ان پر جادو ہوا ہے۔ اس نے دریافت کیا۔ ان پر کس نے جادو کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: کنگھی میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے میں، پہلے نے دریافت کیا: وہ کہاں ہے۔ دوسرے نے جواب دیا: ذی زروان کے کنویں میں ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ اس کنویں کے پاس آئے جب آپ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو اور وہاں کے کھجوروں کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے اسے جلوا کیوں نہیں دیا، یا نکلوا کیوں نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت عطا کی تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کے حوالے سے لوگوں میں کوئی خرابی پیدا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان چیزوں کو دفن کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6582
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3155): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6548»