کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ اہل کتاب میں سے بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عناد کیا
حدیث نمبر: 6580
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْفَلْتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " يَا فُلانُ ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالإِِنْجِيلَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالْقُرْآنَ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ أُنْشِدَهُ ، فَقَالَ : " تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالإِِنْجِيلِ ؟ " ، قَالَ : نَجْدُ مِثْلَكَ ، وَمَثَلَ أُمَّتِكَ ، وَمَثَلَ مُخْرِجَكَ ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ فِينَا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ ، تَخَوَّفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ ، فَنَظَرْنَا ، فَإِِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ ، قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " قَالَ : إِِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا ، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلا عِقَابَ ، وَإِِنَّ مَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لأَنَا هُوَ ، وَإِِنَّهَا لأُمَّتِي ، وَإِِنَّهُمْ لأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَسَبْعِينَ أَلْفًا ، وَسَبْعِينَ أَلْفًا " .
سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان موجود تھا اور اس کے نیچے چادر تھی۔ آپ نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے بنو حارث کے محلے کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ کا گزر ان کی ایک محفل سے ہوا جس میں کچھ مسلمان اور مشرکین اور بتوں کے پجاری اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ اس محفل میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب اس جانور کے پاؤں کی غبار اس محفل تک پہنچی تو عبداللہ نے اپنی چادر اپنے ناک پر رکھ لی پھر اس نے کہا: ہم پر غبار نہ اڑائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا ان لوگوں کے پاس ٹھہر گئے آپ نے ان لوگوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: اے صاحب آپ جو باتیں کر رہے ہیں اگر وہ سچی ہیں تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں ہماری محفل میں تکلیف نہ پہنچائیں۔ آپ اپنی رہائشی جگہ پر تشریف لے جائیں۔ ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آیا کرے آپ اس کے سامنے یہ سب کچھ بیان کر دیا کریں۔ اس پر سیدنا عبدالله بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ آپ ہمارے ہاں ہماری محفل میں تشریف لایا کریں۔ ہمیں یہ بات پسند ہے، اس بات پر مسلمانوں مشرکین اور یہودیوں کے درمیان تو تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان لوگوں نے لڑنے کا ارادہ کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کروانے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اپنی سواری پر سوار ہوئے اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے آئے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے سنا کہ ابوحباب نے کیا کہا: ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عبداللہ بن ابی تھا۔ اس نے یہ یہ بات کہی ہے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس سے درگزر کیجئے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو مرتبہ اور مقام عطا کیا ہے اس سے پہلے یہاں کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ اسے یہاں کا بڑا سردار بنا دیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی تشریف آوری کے ذریعے اس کی یہ خواہش پوری نہیں کی تو وہ اس بات پر جل بھن گیا۔ اسی وجہ سے اس نے یہ طرزعمل اختیار کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے درگزر کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6580
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَالِمٍ] قال الشيخ: وكذا في الطبعة الأخرى! وفي «الموارد»: (سلام)، وهو الصواب، وقد نسبه المُؤلِّف إلى جَدِّهِ، واسم أبيه: (مُنيب)، وهو ثقه مترجم في «التهذيب». ولم يتفرَّد به، فقال عفان: ثنا عبد الواحد بن زياد ... به. وأخرجه البزَّار (4/ 207 / 3544)، والطبراني (18/ 332 / 854)، وقرن هذا بعفان: يحيى الحِمَّانِي. فصحَّ الإسنادُ، والحمدُ لله. وتابعه صالحُ بنُ عمر: عند الطبراني، والبيهقي في «الدلائل» (6/ 273). وصالح: هو الواسطيُّ، ثِقَه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6546»