کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل وعلا کے حکم کے ظہور میں سخت مشکلات برداشت کیں
حدیث نمبر: 6575
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ يَسْلُتُ الدَّمُ عَنْ وَجْهِ وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نبی کی حکایت بیان کرتے ہوئے کہا: کہ ان کی قوم کے افراد نے انہیں اتنا مارا کہ ان کے چہرے کو زخمی کر دیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے میرے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔
حدیث نمبر: 6576
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَى نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ حَتَّى أَدْمَوْا وَجْهَهُ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ " .
سیدنا جندب بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کسی جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ” تم صرف ایک انگلی ہو، جس سے خون بہہ رہا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ “
حدیث نمبر: 6577
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمِيَتْ أُصْبُعُهُ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ أَنْتَ إِِلا أُصْبُعٌ دَمِيتَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتَ " .
ابوحازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر کس چیز کے ذریعے دوا لگائی گئی تھی تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مشکیزے میں پانی لے کر آئے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون کو دھو رہی تھیں پھر چٹائی لی گئی اسے جلایا گیا تو اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر) لگا دیا گیا۔