کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر اپنے رب جل وعلا کی رسالت کے ظہور کے وقت چوٹ لگی
حدیث نمبر: 6574
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالا : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَشُجَّ وَجْهُهُ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى رَبِّهِمْ " ، فَنَزَلَتْ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے۔ ایسی قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کو زخمی کر دیتی ہے اور ان کے دانتوں کو زخمی کر دیتی ہے حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ “